ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے ساتھ

ابوالدردا رضي اللہ عنہ

ابو دردا علی الصبح بیدار ہوکر سیدھے اپنے گھر کے سب سے اچھے حصے میں رکھے گئے بت کی طرف گئے۔  انھوں نے بتوں کو نمستے کہا اور اس کے اگے کورنش بجالائے۔ پھر انہوں نے بت کو اپنی ہی شاندار دکان کی سب سے اچھی خوشبو لگائی اور خوبصورت ریشم کے کپٹر ے سے جو ایک تاجر یمن سے کل ہی لایا تھا ملبوس کردیا۔

جب سورج سر پر اگیا تو وہ اپنی دکان کی طرف روانہ ہوئے۔ اس وقت تک یثرب کی گلیاں اور کوچے  حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیرؤکاروں سے بھرچکے تھے جو بدر سے واپس ارہے تھے اور ان کے ساتھ کئی جنگی قیدی بھی تھے۔ ابو دردا نے مجمع پر ایک طائرانہ نظر ڈالی پھر ایک خزراجی نوجوان کے پاس گئے اور  اس سے عبداللہ ابن رواح کے بارے میں دریافت کیا۔

"وہ جنگ کے سب سے مشکل مرحلہ سے  گذرے ہیں مگر محفوظ نکل ائے۔۔۔"

ابودردا یقیناً اپنے دوست عبداللہ ابن رواح کے بارے میں بہت پریشان تھے۔ یثرب کا ہر فرد ان دونوں کے برادرانہ تعلقات کےبارے میں زمانہ جہالت سے جانتا تھا جب کہ اسلام یثرب میں داخل نہیں ہوا تھا۔ جب اسلام کا سورج یثرب کے اسمان پر طلوع ہوا تو عبداللہ  ابن رواح نے اسے قبول کرلیا مگر ابن دردا نہ مسترد مگر ان دونوں کے برادرانہ تعلقات پر اس سے کوئی اثر بھی نہیں پڑا۔ عبداللہ نے  ابن دردا سے ملناجلنا نہیں چھوڑا اور مسلسل انہیں اسلام  کی خوبیاں، فوائد اور  بڑائی کے بارے میں اگاہ کرتے رہے۔ مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ابو دردا مشرک ہی رہے جیسے دیکھ کر عبداللہ غمزدہ اور فکر مند ہوجایاکرتے۔

ابودردا اپنی دکان پر ائے اور اپنی ارام دہ کرسی پر سکون سے بیٹھ کر خرید فروخت کے بارے میں اپنے  ملازمین کو ہدایتں دینا شروع کردیں۔ اس بات سے بےخبر تھے کہ ان کے گھر پر کیا ہورہا ہے۔ عبداللہ ابن رواح ایک ارادہ کرکے ان کے گھر پہنچے وہاں عبداللہ نے دیکھا کی مرکزی دروازہ کھلا ہے۔ ام دردا صحن میں موجود تھیں۔ عبداللہ نے ان سے کہا۔ " اسلام وعلیکم۔ اپ پر سلامتی ہو بندیِ خدا"

"وعلیکم اسلام ۔ اپ پر بھی سلامتی ہو ۔ او برادرِ ابو دردا۔"

"ابو دردا کہاں ہیں" ابن عبداللہ نے پوچھا۔

"اپنی دکان پر۔ کچھ ہی دیرمیں وہ واپس اجائیں گے" جواب  ملا۔

"کیا مجھے اندر انے کی اجازت مل سکتی ہے" عبداللہ نے درخواست کی۔

"بلاتکلف۔ یہ بھی تو اپ کا اپنا ہی گھر ہے" ام دردا نے کہا اور وہ پھر گھریلو مصروفیات اور بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئیں۔

عبداللہ ابن رواح سیدھے اس کمرے میں گئے جہاں بت رکھا ہوا تھا۔ وہ ایک تیشہ نکال کر جو اپنے ساتھ ہی لائے تھے اور بت پر ضربیں لگانی شروع کردیں۔ وہ کہتے جارہے تھے کہ

 "کیا ہر وہ شے باطل نہیں جسے اللہ کے سوا پوجا جائے"

جب بت مکمل طور پر تباہ ہ ہوگیا تو عبداللہ گھر سے نکل گئے۔ کچھ لمحوں بعد ابودردا کی شریک حیات کمرے میں داخل ہوئیں اور صورت حال دیکھ کر متحیر ہوگئیں۔ انھوں نے اپنے گالوں کو غم کی وجہ سے پیٹنا شروع کردیا اور کہا " تم تو ہم پر تباہی لے ائے ہو ابو عبداللہ" جب ابوعبداللہ گھر میں واپس ائے تو دیکھا کہ ان کی شریک حیات اس کمرے کے دروازے سے لگی بیٹھی ہیں جہاں بت رکھا تھا" کیا مسئلہ ہے" ابودردا سوالیہ انداز میں پوچھا۔

اپ کے بھائی عبداللہ ابن رواح تھماری غیر موجودگی میں یہاں ائے تھے اور خود دیکھ لو انہوں نے تھمارے بت کے ساتھ کیا کیا ہے" ابو دردا بت کی طرف دیکھ کر دہشت زدہ ہوگئے۔ وہ غصے سے بھرے ہوئےبدلہ لینے پر تل گئے۔ مگر زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ ان کا غصہ ٹھنڈا پڑگیا۔ اب وہ سوچ رہے تھے کہ یہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے اور انھوں نے خودکلامی کے انداز میں کہا "

"اگر کوئی خدا اس بت کے اندر ہوتا تو وہ اس توڑپھوڑ کا خود دفاع کرسکتا تھا"

وہ پھر سیدھے عبداللہ کے پاس گئے اور ان کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ پھر انہوں نے اپنے اسلام کا اعلان کردیا۔ وہ اپنے علاقے کے اخری فرد تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔

اگلا صفحہ