ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے ساتھ

ابو الدردا رضي اللہ عنہ

گزشتہ سے پيوستہ

ایک مرتبہ مسلمانوں کا ایک گروہ ایک رات گزارنے ابوردا (ر) کے پاس ائے۔ وہ ایک نہایت سرد رات تھی۔ ابودردا نے مہمانوں کو گرم گرم کھانا پیش کیا جس کو نہایت پسند کیا گیا۔ اسکے  بعد  وہ خود سونے کے لیے تشریف لے گئے مگر مہمانوں کو کمبل نہ دیے۔ مہمانوں نے بے حد بےچینی محسوس کی کہ اس سرد رات میں کمبلوں کے بغیر کیسے گزارا ہوگا۔ پھر ایک مہمان نے کہا کہ " میں جاتا ہوں اور ابو دردا سے بات کرتا ہوں"۔ " ان کو تکلیف مت دو" دوسرے نے جواب دیا۔  مگر بالاخر ایک مہمان ابودردا کے پاس پہنچ ہی گیا اور ان کے دروازے کے اگے کھڑا ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ ابودردا لیٹے ہوئے ہیں۔ اور ان کی شریک حیات ان کے پاس بیھٹی ہوئی ہیں۔ ان دونوں نے نہایت ہلکے کپڑے پہنے ہوئے ہیں جو کہ سرد کی شدت برداشت کرنے کے لیے ناکافی تھے اور ان کے پاس کوئی کمبل نہ تھے۔ ابودردا نے مہمان سے کہا " اگر ہمارے پاس کچھ ہوتا تو ہم اپ کو پہلے ہی دے دیتے"۔

حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کے دور میں خلیفہ حضرت عمر ابودردا کو  شام کا گورنر مقرر کرنا چاہتے تھے مگر ابودردا نے  اس پیشکش کو رد کردیا۔ حضرت عمر (ر) نے زور دیا تو ابودردا نے کہا " اگر اپ مطمئمن ہیں کہ مجھے ان کے پاس  اللہ کی کتاب اور اس کے رسول (ص) کی سنت سکھانے اور ان کے ساتھ اللہ کی  عبادت کروں تو میں یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں"۔ عمر راضی ہوگے اور ابودردا دمشق روانہ ہوگئے۔ ابودردا نے دیکھا کہ وہاں لوگ تن اسانی اور عیاشی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس بات سے وہ پریشان ہوگئے اور انھوں نے لوگوں کو مسجد میں بلایا اور یوں مخاطب ہوئے:  " او دمشق کے لوگوں! اپ میرے دینی بھائی ہیں میرے پڑوسی جو دشمن کے خلاف میرے ساتھ صف ارا ہیں۔ او دمشق کے لوگوں! اپ کو کس بات نے میری طرف راغب ہونے اور میری ہدایت سننے سے روکا ہے جبکہ میں اپ سے صلہ میں کچھ نہیں چاہتا۔ کیا درست نہیں ہے کہ اہل علم حضرات اپ سے (دنیا سے) رخصت ہورہے ہیں اور عام لوگ علم حاصل نہیں کررہے ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اپ لوگ اس چیز کی طرف متوجہ ہورہے ہیں جس کا حساب اللہ کو دینا ہے جبکہ اس چیز کو چھوڑ رہے ہیں  جس کی طرف اللہ نے اپ کو حکم دیا ہے۔

" کیا یہ بات مطابق حق ہے کہ میں دیکھوں کہ اپ  وہ چیز جمع کررہے ہیں جو کہ اپ استعمال نہیں کرتے، اور عمارتیں بنارہے ہیں جن میں اپ نہیں رہتے، اور ان خواہشوں کو پال رہے ہیں جن کو اپ حاصل نہیں کرسکتے۔

"اپ سے پہلے بھی لوگوں نے دولت جمع کی، بڑے بڑے منصوبے بنائے اور بڑی امیدیں قائم کیں۔ مگر کچھ وقت نہیں گزراتھا کہ جو کچھ انہوں نے جمع کیاتھا وہ تباہ ہوگیا، اور ان کی امیدیں ناتمام رہیں اور ان کے گھر قبرستان میں بن گئے۔ ایسے ہی لوگ عاد کی قوم کے تھے۔ او دمشق کے لوگوں۔ انھون نے زمین کو اپنی ملکیت اور  اپنی اولادوں سے بھردیا۔

"کون ہے جو مجھ سے عاد کی تمام وراثت دو درھم کے عوض ہی خرید لے؟"

لوگوں نے یہ سن کر اہ وازاری شروع کردی اور ان کی اہیں مسجد سے باہر تک سنائی دے رہی تھیں۔ اس دن کے بعد ابو دردا لوگوں سے دمشق میں مختلف مقامات پر ملنا شروع کردیا۔ وہ ان کے بازاروں میں جاتے اور تعلیم دیتے اور ان کے سوالات کے جوابات دیتے اور ہر ایک کو باعمل بنانے کی کوشش کرتے جو بے پرواہ ہوتے جارہے تھے۔ وہ ہر موقع استعمال کرتے تاکہ لوگوں کو جگاسکیں اور انھیں سیدھی راہ پر لگاسکیں۔

ایک مرتبہ وہ لوگوں کے ایک گروہ کے قریب سے گزررہے تھے جو کہ ایک ادمی کے گرد جمع تھا۔ لوگوں نے اس ادمی کے بے عزتی کرنی شروع کردی اور مارنا شروع کردیا۔ ابودردا ان کے قریب ائے اور پوچھا:" کیا معاملہ ہے؟" " یہ شخص ہے جس نے گناہِ کبیرہ کیا ہے"۔ جواب ملا۔

" اپ کیا کریں گے اگر یہ ایک کنویں میں گرجائے؟" ابودردا نے پوچھا۔ " کیا اپ اس کو نہیں نکالیں گے؟" " کیوں نہیں" انھوں نے جواب دیا۔" اس کو نہیں ماریں نہ اس کی بےعزتی کریں۔ بلکہ اس کی تصحیح کریں اور یہ بتایں کہ اس گناہ کے کتنے برے اثرات ہوتے ہیں اور پھر اللہ کی حمد و ثنا کریں کہ اللہ نے اپ کو اس گناہ میں مبتلا ہونے سے بچایا۔" " کیا اپ اس سے نفرت نہیں کرتے " انھوں نے پوچھا۔  " میں صرف اس گناہ سے نفرت کرتا ہوں جس کا یہ مرتکب ہو اور اگر یہ توبہ کرلے تو میرا بھائی ہے۔" وہ شخص رونا شروع ہوگیا اور سب لوگوں کی موجودگی میں توبہ کااقرار کیا۔

اگلا صفحہ