ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے ساتھ

ابو الدردا رضي اللہ عنہہ

گزشتہ سے پيوستہ

ایک نوجوان ایک مرتبہ ابودردا (ر) کے پاس ایا اور کہا: " او اللہ کے رسول (ص) کے صحابی مجھے نصیحت کیجیے"۔ ابودردا نے اس سے کہا:

"میرے بیٹے، اللہ کو اپنے اچھے وقت میں یاد کرو وہ تمھیں تھمارے برے وقت میں یاد رکھے گا"

میرے بیٹے، صاحب علم بنو اور  علم حاصل کرو، اچھے سامع بنو اور جاہل نہ رہ جاو ورنہ تباہ ہوجاؤ گے"

" میرے بیٹے،  مسجد کو اپنا مسکن بنالو کہ میں نے اللہ کے رسول سے سنا ہے کہ: مسجد اللہ سے ڈرنے والوں کا گھر  ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اطمینان، ارام اور رحمت ، اپنی  راہ میں رکھنے کا یہاں تک کہ اللہ کی رضا حاصل ہوجائے کا وعدہ ان لوگوں سے کرتا ہے جو اللہ کے گھر یعنی مساجد کو اپنا مسکن بنالیں"

ایک اور مرتبہ لوگوں کے گروہ  سے جو کہ ایک راہگزر پر بیٹھے ہوئے تھے، اور اپس میں ہنسی مذاق اور  لوگوں کو گزرتا دیکھ رہےتھے ابو دردا نے کہا:

"ایک مسلمان کا راحت کدہ اس کا گھر ہے جہاں وہ اپنے اپ کو قابو میں رکھتا ہے اور  باحیا رہتا ہے۔ بازاروں میں بیٹھنے سے باز رہو کیونکہ  اس سے وقت فضول کاموں میں ضائع ہوجاتا ہے۔"

ابودردا ابھی دمشق میں تھے کہ معاویہ ابن ابی سفیان نے ان سے   اپنے بیٹے یزید کے لیے اپ کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ ابودردا راضی نہ ہوئے۔ اور ابودردا نے اپنی بیٹی کا رشتہ ایک غریب نوجوان مگر جس کا کردار اور اسلامی مزاج ابودردا کو پسند تھا کودےدیا۔ لوگوں نے یہ سنا تو چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ ابو دردا نے  یزید کا  رشتہ کیوں قبول نہیں کیا۔  اور یہ سوال بالاخر ابودردا سےکیا گیا۔ انھوں نے کہا :" میں صرف وہ چیز پیش نظر رکھی جو دردا کے لیے بہترین ہے" (دردا ان کی صاحبزادی کا نام تھا)۔ " وہ کیسے؟" سوالی نے کہا۔ " کیا اپ نہیں چاہتے کہ نوکر اپ کی صاحبزادی کے اگے ہاتھ باندھے حکم بجالانے کے لیے کھڑے ہوں اور وہ محلات میں رہے جس کی چکاچوند سے انکھیں خیرہ ہوجائیں؟"۔ " مگر پھر اس کا دین کیا رہ جائے گا" ابو دردا نے جواب دیا۔

 ابھی ابودردا مصر میں ہی تھے کہ خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ معائنہ کے لیے تشریف لائے۔ ایک رات وہ ابودردا سے ملنے ان کے گھر ائے۔ گھر میں کوئی روشنی نہیں تھی۔ ابو دردا نے خلیفہ کو خوش امدید کہا اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ دونوں نے اندھیرے میں بات چیت شروع کی۔ اسی دوران عمر نے محسوس کیا کہ ابو دردا کی تکیہ  کسی جانور کی زین کی بنی ہوئی ہے۔  عمر نے وہ جگہ کو چھوا جہاں ابودردا تشریف فرما تھے تو محسوس ہوا کہ وہ جگہ  سنگریزوں سے پر ہے۔ انھوں نے اس چادر کو بھی چھو کر محسوس کیا جو وہ اوڑھے ہوئے تھے اور یہ جان کر حیران رہ گئے کہ وہ اتنی پتلی تھی کہ دمشق کی سردی برداشت کرنے کے قابل نہ تھی۔ عمر نے پوچھا:

" کیا میں کچھ چیزیں اپ کی اسانی کے کے نہ بھجوادوں؟"

" کیا اپ کو یاد ہے؟ عمر" ابودردا  نے کہا "ایک حدیثِ رسول (اللہ کی رحمت و سلام ان پر ہو)۔ "کونسی؟" عمر نے پوچھا۔ " کیا انھوں نے نہیں کہا:  اپنے لیے اس دنیا میں صرف وہ چیز ہی رہنے دو جو ایک مسافر کی زادِراہ ہوتی ہے؟ " " ہاں"، عمر نے جواب دیا "اور ہم نے اپ (ص) کے بعد کی کیا؟" ابودردا نے پوچھا۔

انسو دونوں صحابہ کی انکھوں سے رواں ہوگئے اور اس دولت کے بارے میں سوچنے لگے جو اللہ نے مسلمانوں کو عنایت کردی تھی اور جس کو جمع کرنےمیں مسلمان مصروف ہوگئے تھے۔ سخت افسوس اور دکھ کا اظہار دونوں صبح تک کرتے رہے۔