http://www.witness-pioneer.org/vil/Articles/issues/albania.htm
(
یہ ارٹیکل
البانیہ کے
اسکالر
ڈاکٹر
اسمائیل
بردھی کے
ایک مقالہ کے
کچھ حصہ کا
ترجمہ ہے)
البانیہ
کے باشندوں
کا اسلامی
ادب،
فنون،
شاعری اور
تخیل میں
بڑا حصہ ہے۔
البانیہ
علمیت کی
زرخیز تاریخ
رکھتا ہے۔
کچھ البانوی
شعرا عرب
کی داستان و
روایت سے
متاثر ہوکر
دانشمندانہ
انداز میں
اپنے معاشرے
کو اسلامی
رنگ دیا۔
اگرچہ
البانوی
مسلم ہوگئے
مگر وہاں
نسلی تعصب
اور نفرت
ناپید تھی۔
البتہ
معاشی وجوہ
کی بنیاد پر
تصادم
ہوجاتاتھا۔
مسلم اور
عیسائی
دہقان مخصوص
دولت مند
طبقہ سے
مقابلہ کرنے
کے لیے
متحدتھے۔
نوئیل مالکم
کے بقول نسلی
تعصب ایک نیا
تصور اور
مظہر ہے جو
کہ سربین قوم
پرستی کا
نتیجہ ہے۔
سربیا
نے 1900 کے شروع
میں البانیہ
پر حملہ کیا
اور عیسائی
سالویک
ابادی کو
مسلم
البانیوں سے
بچانے اور "ازاد"
کرانے کے
لیے اس پر
قابض ہوگئے۔
یہ
نوابادیاتی
قبضہ اس
یورپی اقوام
کے افریقہ
اور انڈیا پر
قبضہ کے
مماثل تھا۔
البانیہ کے
معاملے میں
سربوں نے
البانیوی
سربوں کو "ازاد"
کرانےکے لیے
یہ دعویٰ کیا
کہ البانوی
سرب عثمانی
دور حکومت
میں مظالم کا
شکار تھے۔
انھوں نے
البانوی
سربوں کو "ازاد"
کراکے ان
کوترجیحی
مراعات سے
نوازا جب کہ
دوسرے (خصوصاً
مسلم) اس سے
محروم رہے۔
وقت گزرنے کے
ساتھ جو
بندھن مسلم
اور
عیسائیوں کے
درمیان قائم
تھا کمزور
پڑتا گیا اور
بالاخر
دونوں گروہ
مخالف گروہ
میں تبدیل
ہوگئے۔اس پس
منظر میں جب
حقیقی نسلی
نفرت کا اغاز
ہوا تو اس
میں سربوں کی
امتیازی
پالیسی کا
بڑا ہاتھ تھا۔
جب
کہ مسلم اپنی
قوت یورپی
عیسائیوں کے
ہاتھوں کھو
بیٹھے تو
یورپی اقوام
نے مسلم
سرزمیں پر
قبضے جمانے
شروع کردیے۔
1912 میں لندن
کانفرس میں
البانیہ کو
یونان،
سربیا اور
مقدونیہ اور
مونٹی نیگرو
میں تقسیم
کردیا گیا۔
انھوں نے ایک
نئی ریاست
کوسوو کی بھی
تشکیل دی جو
کہ بنیادی
طور پر
البانوی
باشندوں پر
مشتمل تھی۔
یہ کانفرس
بڑی پرپیچ
نتائج کی
حامل تھی
مثلاً اس نئی
نقشہ بازی سے
البانوی
پہلے ہی
محدود ریاست
میں سکڑ کر
رہ گئے تھے
دو ریاستوں
میں تقسیم
ہوگئے یعنی
البانیہ اور
کوسوو۔
دوسرے
مسلم جو کہ
ہم رنگی
ریاست میں
مسلم
البانیہ میں
رہ رہے تھے
اب عیسائی
ریاستوں میں
اقلیت بن کر
رہ گئے۔ اس
تقسم کرو اور
حکومت کرو کی
پالیسی نے
غیر مسلم
ممالک کو اس
قابل بنادیا
کہ وہ
کمزور اور
منتشر مسلم
اقلیت کو
اپنے قابو
میں رکھ سکیں
۔ بعد کے
عرصے میں جب
بھی البانوی
مسلمانوں نے
متحد ہونے کی
کوشش کی تو
ان کو ناکامی
کا منہ اس
وجہ سے
دیکھنا پڑا
کہ کسی بھی
معاملے میں
وہ یک رائے
نہ ہوسکے۔
اس
کانفرس کے بد
اثرات اج تک
محسوس ہوتے
ہیں۔ جب
البانیہ کا
کچھ حصہ
یونان کو دیا
گیا تو یونان
کی حکومت
پروپیگنڈے
کے زور پر
کوشش کی ( اور
اب تک کررہی
ہے) کہ
البانویوں
کو مغرب زدہ
کردیا جائے۔
کئی چرچ کوشش
کرتے رہے ہیں
کہ البانوی
مسلمانوں کو
عیسائیت کر
طرف راغب
کردیا جائے۔
یونانی
حکومت
ان
البانویوں
میں سے کئی
کو اپنے اس
مقاصد کے لیے
استعمال کیا
اور کئی
البانویوں
گروہ کو دھشت
گردی کی
تربیت اور
اسلحہ دیا
گیا اور ان
کو سبوتاژ کے
مشن پر بھیجا
گیا تا کہ
البانیہ
اور اس کے
انفراسٹرکچر
کو کمزور
اورتباہ
کردیا جائے۔
اج
کل البانیہ
اٹلی،
یونان،
مقدونیہ ،
مونٹی نیگرو
اور سربیا کے
درمیان گھرا
ہوا ہے۔
قریباً 3٫5
ملین
البانوی
ریپبلک اف
البانیہ میں
رہتے ہیں
جبکہ 2 ملین
البانوی
کوسوو میں
اور 700٫000
مقدونیہ میں
رہتے ہیں۔ ان
تمام منتشر
البانویوں
کی کل تعداد 6٫5
ملین بنتی ہے۔
البانوی
مسلمانوں کا
ابادی میں
تناسب
البانیہ ،
کوسوو اور
مقدونیہ میں
بالترتیب 70
فی صد، 95 فی صد
اور 99 فیصد ہے۔




