البانویوں
کی بڑی تعداد
مذہب سے ایک
بڑے عرصے سے
محروم تھی۔
بنیادی طور
پر اس کی وجہ
یہ رہی کہ
پرائمری ،
سکینڈری اور
اعلیٰ دینی
تعلیمی
اداروں کا
فقدان تھا
اور روایتی
عربی ادبی
علوم کی
تعلیم کا
بالخصوص
انتظام نہ
تھا۔ کیوں کہ
اس قسم کے
اداروں کو
البانوی
کمیونسٹ دور
حکومت میں یا
تو تباہ
کردیا گیا یا
بلکل مفلوج۔
تعلیم یافتہ
لوگ کو تربیت
دھریت یا بے
دین خطوط پر
کی گئی۔ اور
چونکہ وہ لوگ
جو مناسب
تعلیم حاصل
کرتے ہیں عام
طور پر وہی
معاشرے
میں اعلیٰ
مقام حاصل
کرتے ہیں اور
عوام پر اپنے
اثرات ڈالتے
ہیں لہذا
البانویوں
نے اپنے
معاشرے میں
اخلاقیات کی
دھجیاں اڑتی
دیکھیں۔
تعلیم
یافتہ افراد
نے مذہبی طور
پر معکوس
طریقے پر عمل
ظاہر
کیا۔جیسے
جیسے کوئی
زیادہ تعلیم
یافتہ ہوتا
جاتا تھا
مذہبی اقدار
اور اعمال
ضائع ہوتے
چلے جاتے تھے۔
مجموعی طور
پر صرف غیر
تعلیم یافتہ
حضرات ہی
مذہبی
تعلیمات پر
عمل پیرا تھے
جو کہ جذباتی
طور پر اپنے
اپ کو اپنی
تاریخی
روایات
سےجوڑے
ہوئےتھے۔
البانوی
اسلامی
تعلقات کے
کّرے کے ایک
حصّہ میں
البانوی او
ای سی (ارگنائزیشن
اف اسلامک
کانفرس) مبصر
کا درجہ حاصل
تھا جس کو
البانیہ نے
چھوڑ رکھا
تھا۔ ایک
مرتبہ ایک
البانوی
اسلامی بینک
بھی دارلحکومت
ترانہ میں
تشکیل پایا ۔
کچھ دوسرے
پروجیکٹز
میں اسپتال،
اسکول اور
کلچرل مراکز
کا قیام بھی
تھا مگر
البانویوں
نے خود ان
کاروائیوں
سے الگ رکھا
اور دوسرے
ممالک سے
برادرانہ
تعلقات قائم
نہ کیے جس کی
بڑی وجہ
خارجی
مسلمانوں کی
سرگرمیوں کا
تلخ تجربہ
اور یورپ کا
زور دار اثر
تھے۔
اور
جہاں اسلام
مسلم اکثریت
والے
علاقےمیں
لڑکھڑارہا
ہے اور اپنی
جگہ حاصل
کرنے کی
جدوجہد
کررہا
ہےوہاں
عیسائیت
البانیہ میں
پھل پھول رہی
ہے۔ وہ صرف
مذہبی طور پر
مضبوط نہیں
ہیں بلکہ
میڈیا،
سیاست،
تعلیم اور
ریاستی
اداروں میں
بھی غالب ہیں۔
حال
ہی میں
کیتھولک چرچ
کے پوپ نے
البانیہ کا
دورہ کیا اور
ترانہ کے
مرکز میں ایک
بڑے چرچ کی
بنیاد رکھی۔




