چرچ
اور عیسائی
تنظیمیں
عیسائیت کی
تبلیغ کے لیے
بہت متحرک
اور موثر ہیں۔
انھوں نے
اسکول،
اسپتال،
کنڈرگار،
عبادت
گاہیں،
رفاعی مراکز
کے قیام میں
بہت تیزی
دکھائی ہے
اور بہت سے
مقامی
عیسائی جو کہ
بلقان کی
تاریخ ، کلچر
اور نفسیات
سے اچھی طرح
سے واقف ہیں
وہاں بہت
موثر ہیں۔
عیسائی
ابادی کی
مالی امداد
کا زیادہ حصہ
اٹلی ، فرانس
اور دوسرے
طاقت ور اور
دولت مند
ممالک سے اتا
ہے۔ کچھ چرچ
خفیہ طور پر
ان مقامی
غنڈوں سے بھی
روابط
استوار رکھے
ہوئے ہیں جن
کا ہاتھ
البانیہ کی
روزمرہ
زندگی متاثر
کرنے میں
ہوتا ہے۔
زیادہ تر
چرچ اس وجہ
سے کامیاب
ہیں کہ وہ
مسلمان
تنظیموں کی
نسبت بہت
منظم ہیں اور
پیشہ ورانہ
مہارت سے کام
لیتے ہیں۔
یورپ
کا البانیہ
پر اثر صرف
خودساختہ
درست راستے
پر چرچ تک
محدود نہیں
ہے بلکہ
معاشرے میں
کرپشن تک
محیط ہے۔
البانیہ کے
مسلمان پورے
اٹلی اور
فرانس میں
منتشر ہیں
اور برے
کاموں میں
ملوث ہوگئے
ہیں۔ چوری،
اغوا، قتل،
زنابالجبر
اور دوسرے
جرائم جو
ماڈرن ازم کا
نتیجہ ہیں
البانیہ کے
معاشرے میں
ہمیشہ سے
زیادہ
نمایاں ہیں۔
معاشرے سے
اخلاقیات جو
کہ مسلم
البانیہ کا
طرہ ا متیاز
تھے اب معدوم
ہوتےجارہے
ہیں۔
آخر
کار البانیہ
اس مستقبل
کی طرف گامزن
ہے جو کہ
باقی مسلم
دنیا کا حال
ہورہا ہے:
ایک ایسی
ریاست جو
تابناک ماضی
کے حامل ہے
غیر یقینی
مستقبل
کا شکار ہے،
اپنا رستہ اس
گنجلک دنیا
میں تلاش
کرنے کی کوشش
کررہی ہے۔ جس
بات نے اس
معاملے کو
اور گھمبیر
بنادیا ہے وہ
یہ ہے کہ
البانیہ
مسلم اکثریت
والا علاقہ
ہے۔ اور جب
کہ یورپی
قیادت
البانیہ کو
مکمل طور پر
قبول نہیں
کرسکتی،
البانیہ
مسلم دنیا کے
ساتھ روابط
استوار کرنے
سے گریزاں ہے۔
یہ ایک
پریشان کن
دوراہا ہے۔
اس
دوراہے کا
سامنا ہر
البانوی کو
ہے جو کہ
کوشش میں ہے
کہ
ماڈرنائزیشن
کے ذریعے
اپنے تاریخی
ورثے سے
پیچھا
چھڑاسکےمگر
بغیر
تاریخی ورثے
کے انسان کی
کیا حیثیت ہے؟
البانیہ اور
اس کی جڑواں
ریاست کوسوو
دشمنوں میں
گھرے ہوئے
ہیں اگر وہ
ایک دوسرے کے
ساتھ اپنے
معاشرے میں
ہی پر امن
ہوں تو انے
کے جنگجو
پڑوسیوں کی
ہمت نہ ہو کہ
وہ البانیہ
پر حملے
کرسکیں۔ اخر
عثمانی
ایمپائرز
بھی 600 سال تک
وہاں حکومت
کرتے رہے
باوجود اسکے
کہ صلیبی
وہاں حملوں
پر حملے کرتے
رہے۔ مسلمان
اسپین پر 700
سال تک حکومت
کرتے رہے۔
اسی طرح
البانیہ بھی
یورپ کے وسط
میں مسلم
ریاست کے
حیثیت سے
قائم رہ سکتا
ہے۔
کوسوو
کا معاملہ
البانیہ سے
ذرا مختلف ہے۔
یہ اس دور
کے مسلمانوں
کے لیے اج کا
سوال ہے۔
پرانے دور
میں جب
منگولوں نے
بغداد پر
یلغار کی اور
اس کو تباہ
کردیا، کچھ
مسلمان اٹھ
کھڑے ہوئے
اور منگولوں
کے قدم اکھیڑ
دیے۔ منگول
اخر کار
مسلمان
ہوگئے اور
مسلمانوں
کی تاریخ میں
امہ کی قیادت
کا فرض بھی
انجام دیا۔
البانیہ اب
ایک منگول
قابض ،
سلوبڈان
ملاسوچ
کےہاتھ میں
ہے جو کہ ایک
نیا چنگیز
خان ہے۔
ختم
شد
بد بخت ملاسوچ اپنے انجام کو اپ پہنچ گیا ہے۔




