ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے ساتھ

جب عالم اسلام قریب المرگ تھا۔

" عین جالوت"۔۔ اسلامی تاریخ کا اہم موڑ

By Br. Muhammad El-Halaby 
ترجمہ ہمت علی 

ساتویں ھجری میں تاتاریوں نے مسلمانوں کے خلاف مسلمانوں کی سرزمین پر عظیم جارحیت کا ارتکاب کیا اور نتیجتاً مسلمانوں کا خلیفہ  ہلاک ہوگیا اور  دارلحکومت بغداد سمیت مسلمانوں کی تین چوتھائی سرزمین تاتاریوں کے قبضہ میں اگئیں۔ اس دور میں مسلمانوں کا ایک عظیم راہنما ابھرا۔ وہ اپنے دین اسلام پر اور اس بات پر کہ وہ مسلمان عوام کا خادم ہے نازاں تھا۔ اس نے اپنے وقت کی ایک فصیلہ کن جنگ لڑی اور مسلم عوام کی راہنمائی کی جبکہ  مسلمان اپنی مرکزیت کھو چکے تھے۔ یہ راہنما " فاتح سلطان " محمود سیف الدین  قطز ہے اور جس جنگ میں اسنے فتح پائی وہ "عین جالوت" کے نام سے مشھور ہے۔

تاتاری جارحیت اورقبضہ۔

تاتاری 656 ھجری کے اخیر میں مسلمان کی سرزمین پر وارد ہوئے- جب مسلمانوں کے خلیفہ ابو احمد  المطعشم باللہ نے اپنی افواج جارحیت روکنے کے لیے تیار کرنی شروع کیں تو اسکے وزیر "العلقمی" نے دھوکے سے خلیفہ کو باور کرایا کہ جارح سے صلح ممکن ہے اور افواج کی تیاری ممکنہ صلح کا ناممکن بنادے گی۔ علقمی جو کہ ایک غیر عرب شیعہ تھا نے تاتاریوں سے خفیہ خط و کتابت شروع کی اور تاتاریوں سے وعدہ کیا کہ حملے کی صورت میں کوئی مزاحمت نہ کی جائے گی اگر حملہ کی کامیابی کی صورت میں علقمی کو خلیفہ بنانے کی یقین دھانی کی جائے اور اس کے بعد بغداد ایک شیعہ ریاست میں تبدیل ہوجائے۔

جب العلقمی نے خلیفیۃ المسلمین کے دھوکہ دیا اور اس کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ  تاتاریوں سے صلح کا معاہدہ ہونے والا ہے تو المعطشم اپنے وزیروں کے ساتھ اور دیگر راہنماوں کے ساتھ تاتاریوں کے راہنما سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ تاتاریوں نے سب کو قتل کردیا اور نہایت کمینہ انداز میں مسلمانوں کی عزت کو پامال کیا۔

غدار العلقمی بھی عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا اور اپنے خواب پورے کرنے میں ناکام رہا۔ تاتاریوں نے جو کہ  جانتے تھے کہ یہ شخص غدار ہے اور کیونکر تاتاریوں کے ساتھ مخلص ہوسکتا ہے العلقمی کو بھی قتل کردیا۔

سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کو شکست در شکست کا سامنا کرناپڑا۔ تاتاریوں نے سارے عراق پر قبضہ کرنے کے بعد شام کی سرزمیں پر جارحیت کا ارتکاب کیا (شام سے مراد موجودہ شام، اردن، فلسطین، لبنان کا پورا علاقہ اور  مصر و عراق کاکچھ علاقہ ہے)  اور یہاں ظلم و ستم کا بازار گرم کردیا کیونکہ اس علاقے کے لوگوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔

دمشق کے سقوط کے بعد تاتار مصر اور مراکش کی طرف بڑھے جو کہ برسرِزمین  مسلمانوں کے اخری مضبوط گڑھ رہ گئے تھے اور اگر یہ بھی مقبوضہ ہوجاتے تو تمام مسلم امہ تباہ ہوجاتی۔

روایتی طور پر تاتار کماندار "کتابغا" نے ایک دھمکی امیز خط امیر مصر کو روانہ کیا۔ اس میں کچھ اس طرح سے لکھا " ہم نے زمین کو تاراج کردیا، بچوں کو یتیم  اور لوگوں کو سزا دی اور قتل کردیا، ان کے سرداروں کی عزتوں کو خاک میں ملادیا۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ہم سے بھاگ سکتے ہو؟ کچھ ہی دیر بعد تھمیں معلوم ہوجائے گا کہ کیا تھماری طرف ارہا ہے۔۔۔۔۔"

اس خط میں موجود زبان وبیا ن کی غلطیوں کے باوجود اس خط نے مسلمانوں پر گہرا اثر ڈالا کیونکہ ان کے ایمان بہت کمزور تھے اور وہ اخلاقی طور پر اچھی حالت میں نہیں تھے۔

ہمارے امیر قطز جو کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات  سے روشناس تھے اور اسلامی طریق سے ان کی پرورش ہوئی تھی نے دوسرے حکمران کے برخلاف جواب دیا۔ انھوں نے تاتاریوں کے وفد کوقتل کردیا اور ان کی لاشیں اپنے دارلحکومت میں لٹکادیں جس کی وجہ سے ان کی افواج اور عوام کے حوصلے بلند ہوگئے اور دوسری طرف دشمنوں اور  دشمنوں کے جاسوسوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ قطز کا یہ انداز  اس شاعرانہ انداز فکر کا اظہار تھا۔

" تلوار کتابوں سے زیادہ طاقت اظہار رکھتی ہے،  اسکی تیز دھار کی گہرائی بچوں کے کھیل سےتمیز کرسکتی ہے"

جب قطز کا جواب تاتاریوں تک  ان کے جاسوسوں کے ذریعے پہنچا تو تاتاریوں کو معلوم پڑا کہ مصر میں انہیں ایک مختلف قسم کے راہ نما سے سامنا ہے  جیسا انہیں پہلے کوئی نہیں ٹکرایا۔

اگر انھوں نے تاریخ پڑھی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا ہمارے فاتح سردار قطز نے ہارون الرشید کے جواب جو اس نے رومن سردار "نکفور" کو اور "المتعصم" کا جواب جو گورنر "اموریہ" کو دیا تھا کی مثال کی پیروی کی ہے۔ جس کے بعد دشمن جارحیت کے ارتکاب سے باز رہا تھا۔

  جنگ کی تیاریاں

قطز صرف جواب دے کر بھول نہیں گیا بلکہ اس کو اندازہ تھا کہ اس قسم کے واضح جواب کے بعد کس قسم کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ لہذا اس نے تیاریاں شروع کردیں۔

اسنے اپنے عوام کو ایمان، اتحاد جیسے ہتھیاروں سے مزیں کیا قبل اسکے کہ فولاد کے ہتھیاروں سے مسلح کیاجائے۔ اتحاد حاصل کرنے کے لیے اس نے منتشر مسلمان سرداروں کی طرف اپنے امیر مملکت جیسے کہ "بابیرس البندکاری" روانہ کیے۔ امیر مملکت "بابیرس- ممتاز" کے لقب سے جاناجاتا تھا۔ اس نے منتشر سرداروں سے کہا کہ اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بھلا کر متحد ہوجائیں تاکہ اپنے مشترکہ دشمن کو شکست دے سکیں۔ دشمن وہ جو کہ تھادشمن اسلام۔

قطز علماء اسلام کی اھمیت سے بھی بخوبی واقف تھا اور ان کے عوام میں اثرات سے بھی اگاہ تھا۔ اس نے علما سے مدد کی درخواست کی اور ان سے کہا کہ فتح کے لیے دعا کریں اور عوام سے کہا کہ اپنے دین کی سرفرازی کے لیے ثابت قدم رہیں۔ اسنے علما اسلام میں سے اپنے قریبی اور اہم وزیر  منتخب کیے۔

سب سے اہم عالم جنھوں نے سلطان کی مدد کی وہ " سلطان العلماء" العز بن ابدیس سلام تھے۔ سلطان قطز نے  بن ابدیس سلام سے فتویٰ طلب کیا کہ وہ عوام پر مزید جنگی ٹیکس عائد کرسکے تاکہ مزید ہتھیار حاصل ہوسکے۔ دیانت دار عالم نے سلطان پر یہ واضح کردیا کہ حکومت کوئی نیا ٹیکس عوام پرنہیں عائد کرسکتی جب تک کہ گورنر و وزرا اپنی ذاتی دولت اور ان کے تمام رشتہ دار اپنی تمام دولت خرچ نہ کرڈالیں۔ العز نے ان غلام سرداروں کو بھی فروخت کرنے کو کہا کو کہ حکومت کے اہم عہدہ دار تھے مگر قانونی طور پر اپنے مالکان سے ازاد شدہ نہ تھے اور افواج میں طاقت حاصل کرچکے تھے۔

مطلوبہ رقم عوام پر کسی قسم کے نئے ٹیکس عائد کیے بغیر پوری ہوگئی۔ عوام جو کہ اس سارے سلسلے کو اپنی انکھوں سے دیکھ رہے تھے اپنے حکمرانوں کے نافذکردہ  اسلامی قوانین کے وفادار ہوگئے جیسا کہ انھیں  مخلص اسلامی علما کرام نے بتایا۔ مخلص علما نے عوام کو عفلت کی نیند سے جگایا اور انھین قانونی حکمران سے وفاداری اور جہاد کی اھیمت کا احساس دلایا۔ اور اللہ کی راہ میں قربانیوں کی ترغیب دی اور دشمن سے لڑنے کی راہ دکھائی تاکہ خلق خداکو ظلم سے نجات ملے اور اللہ کے ماننے والوں  کی نصرت ہو۔

اگلا صفحہ