ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے ساتھ

عین جالوت

گزشتہ سے پيوستہ

شاندار فتح کی وجوہات

اگر ہم بغور دیکھیں کہ کیا وجہ رہی کہ مسلم افواج اس شاندار فتح کی حقدار ٹھیریں تو معلوم پڑتا ہے کہ یہ وجوہا ت وہ تھی جو کبھی بھی تبدیل نہ ہوئیں نہ ہوں گیں جب سے پہلی وحی نازل ہوئی تا قیامت تک۔

پہلی شرط درست ایمان کے اور  دیانت دار علما، جن کا ذکر پیچھیے کیا گیا جو اسلام کی حفاظت کرتے ہوئے خوف اللہ رکھتے ہوں نہ کہ خوف حکمران ، کی پیروی ہے۔ اسطرح کے علما کی نمائندگی "سلطان العلما" العز بن ابدیس سلام (اللہ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے) کرتے ہیں۔

دوسری اہم شرط مخلص قیادت ہے جو اللہ کے پیغام کی سربلندی  کی کوششیں کرے اور اس کے دین کی حفاظت کرے  صرف اللہ کے واسطے۔ اس کی نمائندگی "فاتح سلطان" قطز (اللہ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے) کرتے ہیں۔

تیسری اہم شرط اور سب سے  بڑی شرط مسلم امہ کا اتحاد ہے جو کہ توحید کے بینر تلے ہو، ایک ہی مشترکہ فکر ہو اور احساس ذمہ داری ہو قطع نظر موجود چھوٹےچھوٹے فرق کے۔

جنگ کا نتیجہ۔

جنگ کا براہ راست نتیجہ مسلمان عوام کا ظالم تاتار جارح سے ازادی تھی۔ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کا حوصلہ بحال ہوا اور جہاد کی درست تعلیمات مسلمانوں میں پھیل گئیں اور انھیں سستی، کاہلی اور شکست خوردگی سےنجات ملی۔

اس جنگ سے قبل، کچھ راوی کہتے ہیں، تاتاری عورت مسلمانوں کے گروہ کے پاس سے گزری اور اس نے مسلمان مردوں کو حکم دیا کہ وہاں ٹھیریں تاکہ وہ ایک خنجر  لے ائے جس سے کہ انھیں ذبحہ کرسکےاور مسلمان مردوں کا گروہ انتظار کرتا رہا اس عورت کے حکم کی تعمیل میں کئی گھنٹوں  اور کئی دوسرے مواقع پر کئی دنوں تک یہاں تک کہ کوئی نہ کوئی وہاں پہنچا اور انھیں قتل کردیا۔ مگر اس فتح کے بعد مسلمانوں نے تاتاریوں کا شکار شروع کردیا اور انھیں قتل کرنا شروع کردیا جب بھی ان پر نظر پڑی۔

ایک اور اہم نتیجہ اس جنگ کا یہ رہاکہ ایک طاقتور اسلامی ریاست وجود میں اگئی جبکہ مسلم خلافت زوال پذیر تھی۔ یہ ریاست کئی صدیوں تک مسلمانوں کی حفاظت کرتی رہی۔

اس جنگ نے مسلمانوں کے ایک ناقابل تغیر روایت کو بھی ثابت کیا : اگر مسلمان اپنے ایمان کو پاکیزہ کریں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے  سیدھی راہ کی طرف لوٹیں اور  درست مسلمان قیادت کی پیروی کریں تو چاہیں وہ کتنے کمزور اور منتشر کیوں نہ ہوں  اخر کار فاتح ہوں گے۔

یہ جنگ اس بات کو بھی ثابت کرتی ہے کہ کفر چاہے کتنا ہی طاقتور ہی کیوں نہ ہو کافر طاقت اخر کار تباہ ہوکر رہے گی۔

یہ جنگ گمراہ مسلمان حکمرانوں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے ان کا حشر بھی ان جیسے دوسرے حکمرانوں جیسا ہی ہوگا (جیسا کہ اس جنگ کے بعد گمراہ مسلمان حکمرانوں کا ہوا) جب ان کی طاقت ختم ہوگی (اور جلد ہی ہوگی انشاللہ)۔