ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے 

جہاد في سبيل اللہ

گزشتہ سے پيوستہ

تیسری امتیا زی خصوصیت

تیسرا امتیازی وصف یہ ہے کہ سخت کوش اور رواں دواں تحریک، اور اس کے نوبنو وسائل دین کو اس کے بنیادی اصول و مقاصد سے دُور نہیں کرتے۔ دین نے روزِاوّل ہی سے، خواہ وہ رسول کے قریبی رشتہ داروں سے ہم کلام ہو، یا قریش سے خطاب کررہا ہو، یا سب عربوں کی طرف اس کاروئے سخن ہو، یا تمام دنیا کے  باشندے اُس کے مخاطب ہوں اُس نے سب سے ایک ہی بنیاد پر گفتگو کی ہے--------- وہ سب سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انسانوں کی بندگی سے نکل کر صرف خدائے واحد کی بندگی کے لیے یکسو ہوجائیں۔ اس اصول پر وہ کوئی سودا بازی نہیں کرتا، اور نہ کسی لچک کو گوارا کرتا ہے۔ پھر ہو اس یکتا مقصد کو پورا کرنے کے لیے ایک لگے بندھے منصوبے پر عمل پیرا ہوجاتا ہے، یہ منصوبہ چند معین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر مرحلے کے لیے متوازی اور نئے وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں۔

چوتھی امتیازی خصوصیت

چوتھا امتیازی وصف یہ ہے کہ دین مسلم معاشرے اور دیگر معاشروں کے باہمی تعلقات کو باقاعدہ قانونی شکل دیتا ہے۔۔۔ جیسا کہ زاد المعاد کی مذکورہ تلخیص سے واضح ہوتا ہے۔۔۔ یہ قانونی ضابطہ جس بنیاد پر قائم ہے وہ یہ ہے کہ "اسلام" (خدا کی فرمانبرداری اور اطاعت کیشی کا رویہ اختیار کرنا) ایک عالم گیر حقیقت ہے جس کی طرف رجوع کرلینا انسانیت پر لازم ہے۔ اور اگر وہ اس کی طرف رجوع نہ کرے اور اسے اختیار  نہ کرے تو اُسے چاہیے کہ وہ اسلام کے ساتھ بالجملہ مصالحت کا موقف اختیار کرے، کسی سیاسی نظام یا مادی طاقت کی شکل میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کے آگے کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ وہ ہر فرد کوآزاد چھوڑدے تا کہ وہ آپنی آزاد مرضی سے اُسے اختیار کرے یا اختیار نہ کرے اور اگر اسے اختیار نہ کرنا چاہے تو اس کی مزاحمت بھی نہ کرے اور دوسروں کے لیے سِدّراہ نہ بنے۔ اگر کوئی شخص مزاحمت کا روّیہ اختیار کرے گا تو اسلام کا فرض ہوگا کہ وہ اس سے جنگ کرے یہاں تک کہ اُسے موت کے گھاٹ اُتاردے یا پھر وہ وفاداری اور اطاعت کا اعلان کردے۔

 شکست خوردہ اور مرعوب ذہنیت کے ادیب جب "اسلام میں جہاد کی حقیقت" کے موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں اور دامن اسلام سے جہاد کا "دھبہ" دھونے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دو باتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ غلط ملط کردیتے ہیں۔ ایک دین کا یہ رویہ کہ وہ عقیدہ کو جبراً ٹھونسنے کی مخالفت کرتا ہے جیسا کہ نصّ قرآنی (لا اکراہ فی الدین) سے عیاں ہے۔ اور دوسرا دین کا یہ طریق کار کہ وہ ان تمام سیاسی اور مادّی قوتوں کو نیست و نابود کرتا ہے جو عقیدہ دین اور انسانوں کے درمیان دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہیں، اور جو انسان کو انسان کے سامنے سرافگندہ کرتی ہیں، اور اُسے اللہ کی عبودیت کسے روکتی ہیں۔۔۔۔ یہ دونوں  اصول بلکل الگ الگ ہیں، ان کا باہم کوئی تعلق  نہیں ہے اور نہ دونوں کو گڈمڈ کرنے کی کوئی گنجائش  ہے۔ بایں ہمہ یہ لوگ اپنی شکست خوردہ ذہنیت سے مجبور ہوکر غلط مبحث کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام میں جہاد کو صرف اس مفہوم میں محصور کردیا جائے جسے آج "دفاعی جنگ" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلامی جہاد ایک جداگانہ حقیقت ہے، عہد حاضر کی انسانی جنگوں سے اس کا سرےسے  کوئی تعلق ہی نہیں ہے، یہ اسباب جنگ کے لحاظ سے اور نہ جنگ کے ظاہری رنگ ڈھنگ کے لحاظ سے۔ اسلامی جہاد کے اسباب خود اسلام کے مزاج اور دنیا میں اس کے اصل کردار کے اندر تلاش کرنے چاہیں، اور ان اعلیٰ اصولوں کے اندر تلاش کرنے چاہیئں جو اللہ تعالیٰ اس دین کے لیے مقرر فرمائے، اور جنہیں بروئے کار لانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے منصب عظیم پر سرفراز فرمایا، اور پھر آپ کو خاتم النبین اور آپ کی رسالت کو خاتم الرسالت کا درجہ دیا۔

اسلام انسان کی آزادی کا اعلانِ عام ہے۔

دین حق دراصل اس عالمگیر اعلان کا نام ہے کہ دنیا میں انسان، انسان کی غلامی سے، اور خود نفس کی غلامی سے جو انسانی غلامی ہی کی ایک شکل ہے، ازاد ہو، یہ اعلان دراصل اُس اعلان کا طبعی نتیجہ ہے کہ الوہیت کا مقام صرف خدائے واحد کے لیے مخصوص  ہے اور اس کی شان ربوبیت تمام اہل جہان کو محیط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین حاکمیتِ انسان کی ہر نوعیت، ہر شکل، ہر نظام اور ہر حالت کے خلاف ہمہ گیر اور کلّی انقلاب، اور روئے زمین پر قائم شدہ ہر اُس ہیت کے خلاف مکمل بغاوت کرتا ہے جس میں کسی شکل میں بھی حکمرانی انسان کے ہاتھ میں ہو۔ یا دوسرے الفاظ میں الوہیت کا مقام انسان نے کسی نہ کسی صورت میں حاصل کررکھا ہو۔ ایسا نظام حکمرانی جس میں معاملات کا آخری رجوع انسان کی طرف ہوتا ہو، اور انسان ہی اختیارات کا منبع ہو، انسان کو درحقیقت الوہیت کا درجہ دیتا ہے، اور بعض انسانوں کو اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کے لیے ارباب من دون اللہ ٹھیراتا ہے۔ مگر جب یہ اعلان کردیا گیا کہ ربوبیت اور الوہیت صرف خدائے واحد کے لیے مخصوص ہے تو اس کا مہفوم یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا غصب شدہ اقتدار غاصبین سے لیکر دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹادیا جائے۔ اور ان غاصبین کا نکال باھر کیا جائے جو خانہ ساز شریعتوں کے ذریعہ انسانوں کی گردنوں پر تخت حکومت بچھاتے ہیں، خود کو ان کے لیے رب کا مقام دیتے ہیں اور انہیں اپنے غلاموں کا درجہ دیتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں اللہ کی الوہیت اور ربوبیت کا آوازہ بلند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ساری بادشاہتوں کی بساط لپیٹ کر اس زمین پر صرف پروردگار ِعالم کی بادشاہت کا ڈنکا بجادیا جائے۔ یا قران کریم کے الفاظ میں یہ اعلان کردیا جائے۔

 

"وہی اکیلا آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا ہے۔"  (زخرف: 84)

"حکم صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اُس کا فرمان ہے کہ اُس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، یہی دین حق ہے" (یوسف: 40)

 " کہہ دیجیے ، اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تھمارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو خدا کی بندگی کرنے والے ہیں" ( آل عمران: 64