ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے 

جُليبِب رضي اللہ عنہ 

اپ کا نام کچھ غیر  مانوس اور  نامکمل سا تھا۔ جُلیبِب "جلباب" کا   مختصر مترادف ہے جس کا مطلب ہے "کوتاہ بڑھوتی"۔ اس نام ہی سے ظاہر ہے کہ جُلیبِب کوتاہ قد اور  کسی حدتک کبڑے جیسے حالت کے حامل تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو "دامیم" سے بھی ظاہر کیا گیا ہے جس کا مطلب بدصورت،  بدنما اور متنفر کرنے والا ہے۔

اس سے بھی پریشان کن بات یہ تھی کہ جس معاشرے میں وہ رہتے تھے وہاں حسب نسب کی بڑی اہمیت تھی مگر جُلیبِب کے نسب کا بھی کو ئی پتہ نہیں تھا۔ اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ ان کے والد اور والدہ کون تھے اور یہ کہ کس قبیلہ سے ان کا تعلق تھا۔ یہ اس معاشرے میں ایک بہت بڑی معذوری تھی جس کے وہ فرد تھے۔  جُلیبِب  اس معاشرے سے کسی قسم کی کوئی رفاقت، مدد اور محافظت کی توقع نہیں تھی جہاں حسب نسب ہی انسان کی بڑائی سمجھاجاتا تھا۔ ان کے بارے میں صرف اتنا معلوم تھاکہ وہ ایک عرب ہیں اور جہاں تک اسلام کی تشکیل کردہ نیا معاشرے کا تعلق تھا  اس میں ان کی تعلق انصار سے تھا۔ شاید ان کا تعلق مدینہ سے باھر کے کسی قبیلہ سے تھا اور بعد میں وہ شہر میں منتقل ہوگئے یا وہ شاید مدینہ ہی کے کسی انصار قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔

اس معذوری کے ساتھ جس میں جُلیبِب مبتلا تھے بہت کافی تھا  کہ لوگ ان کا مذاق بناتے اور معاشرے میں کمتر مقام  کے حقدار ٹھہرتے اور درحقیقت انہیں کچھ گھروں میں داخل ہونے کی ممانعت تھی مثلاً  اسلم قبیلہ کے ابو بارزہ۔ انھوں نے ایک بار اپنی بیوی سے کہا:

" جُلیبِب کو گھر میں داخل نہیں ہونے دینا۔ اگر وہ داخل ہوں تو میں ان کے ساتھ سخت سلوک کروں گا" شاید اس لیے کہ جُلیبِب مردوں کی محفل میں سخت مذاق، طعن و تشنع کا نشانہ بنتے اور خواتین کی پناہ ليتے تھے

کیا اس بات کی کچھ توقع تھی کہ  جُلیبِب کے ساتھ باوقار طریقے سے برتاؤ کیا جائے گا؟  کیا  اس کی کچھ امید تھی کہ بطور ایک  فرد اور مرد کے  وہ اپنے جذبات کی تسکین کرسکیں؟ کیا اس بات کی کچھ امید تھی کہ وہ حقوق جن کو ہرکوئی پیدائشی حق گردانتا ہے ان کے حصے میں بھی اسکیں؟ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اسلام کے روبہ تشکیل نئے معاشرے میں  کیا ان کی حثیت اتنی ہی معمولی رہے گی  کہ وہ  ریاست کے عظیم معمولات  اور زندگی کے بالاتر  معاملات میں ہمہ تن مصروف پیغمبر (ص) کی توجہ سے محروم رہیں؟

تقدیر اور زندگی کے بارے میں اعلیٰ ترین  علم رکھنے والے رحمت العالمین (ص) کو اپنے اس صحابی کے ضروریات اور حساسیت کے بارے میں بھی اچھی طرح علم تھا۔  

۔ پیغمبر اسلام (ص) جُلیبَب (ر) کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک صحابی کے پاس گئے اور کہا " میں چاہتا ہوں کہ اپ اپنی صاحبزادی کی شادی کردیں"۔ "کتنی اچھی اور مبارک بات ہے اے رسول اللہ اور یہ تو میری انکھوں کی ٹھنڈک ہوگی"۔ انصاری صحابی نے  خوشی اور مسرت کے ساتھ کہا۔ "میں اپنے لیے بات نہیں کررہا ہوں" پیغمبر نے مزید کہا۔ " پھر کس کے لیے اللہ کے پیغبر (ص)"۔ صحابی نے کچھ اداسی کے ساتھ کہا۔ "جُلیبَب کے لیے" پیغمبر (ص) نے کہا۔

انصاری ذرا  صدمہ سا پہنچا اور وہ بمشکل کہہ سکے کہ " میں اس کے ماں سے مشورہ کرلوں" اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی شادی کرلے"۔  انھوں نے اپنی شریک حیات کو مطلع کیا۔ " یہ تو بہت اچھا خیال ہے اور ہمارے لیے بہت ہی خوشی کی بات ہے"  شریک حیات نے سرشاری کی سی کیفیت میں جواب دیا۔ " مگر وہ خود شادی کے خواہش مند نہیں ہیں بلکہ وہ  جُلیبِب کے ساتھ شادی کی منشا ظاہر کی ہے"۔ تو وہ بھی ششدر رہ گئیں۔

"جُلیبِب کے ساتھ! نہیں، جُلیبِب کے ساتھ کبھی نہیں، اللہ کی قسم، ہم  جلُیبَب کے ساتھ اس (بیٹی کی) شادی نہیں کریں گے"۔ انھوں نے احتجاجاً کہا

اگلا صفحہ