ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے 

جُليبِب رضي اللہ عنہ 

گزشتہ سے پيوستہ

انصاری اپنی بیوی کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے جانے کے لیے اٹھ ہی رہے تھے کہ ان کی صاحبزادی جو اپنی والدہ کا احتجاج سن چکی تھیں نے کہا :" کس نے اپ کو کہا کہ میری شادی کردیں؟"

ماں نے اپنی صاحبزادی رسول اللہ کی جُلیبِب کے ساتھ شادی کی درخواست کے بارے میں بتایا۔ جب انھوں نے سنا کہ درخواست رسول اللہ (ص) کی طرف سے ہے اور ان کی والدہ نے اس کی مخالفت کی ہے تو وہ بہت  پریشان ہوگئیں اور کہا :

" کیا اپ اللہ کے رسول کی درخواست کو مسترد کررہے ہیں؟ اپ یہ بات قبول کرلیں کہ یقیناً وہ میرے لیے بہتر ہی کریں گے"۔ یہ  ایک ایسے عظیم شخصیت کا جواب تھا جو بلاشبہ یہ جانتی تھی کہ بحیثیت مسلمان ان سے کیا درکار ہے۔ اس سے زیادہ قابل اطمینان اور تکمیل ایمان کسی مسلمان کے لیے کیا ہوسکتا ہے کہ وہ بالخوشی اللہ کے رسول کی درخواست و احکام کے اگے سر تسلیم خم کرے۔ بلاشبہ ان صحابی رسول  جن کا نام معلوم نہیں نے یہ ایات جان رکھیں تھیں کہ:

"اور تھمارے گھروں میں  جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور  حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں)  ان کو یاد رکھو۔  بے شک خدا باریک بیں اور باخبر ہے (33)  (جو لوگ خدا کے اگے سراطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی ) مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں  اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سےیاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں ۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے خدا نے  بخشش اور اجر عظیم تیار کررکھا ہے (35)  اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے  کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے  وہ صریح گمراہ ہوگیا (36)   ( القران : سورہ احزاب 33-36)

یہ آیات حضرت زینب بنت جیش اور حضرت زید ابن الحارث  کی شادی کے پش منظر میں نازل ہوئی تھیں جس کا انتطام پیغمبر رسول (ص) نے معاشرتی مساوات کی اسلامی روح کو اجاگر کرنے کے لیے کیا تھا۔ زینب (ر) پہلے پہل تو  زید (ر) سےشادی کے خیال سے تو ذرا دلگیر ہوگئیں اور شادی سے انکار کردیا۔ مگر رسول اللہ (ص) کی ترغیب پر بالاخر یہ شادی منقعد ہوگئی۔ مگر شادی اخرکار طلاق پر ختم ہوئی اور حضرت زینب (ر) کی شادی پھر رسول اللہ (ص) سے ہوئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انصاری خاتون نے یہ آیات تلاوت کیں اور اپنے والدین سے کہا:

"میں مکمل مطمئین ہوں اور  جو کچھ میرے لیے بہتر سمجتھے ہیں اس کے اگے سر تسلیم خم بخوشی کرتی ہوں"

رسول اللہ (ص)  نے انصاری خاتون کا عمل سنا اور اس کے لیے دعا یوں فرمائی :" اے رب،  اس پر خیر کثیر نازل فرما اور اس کی زندگی کو مشکل اور پرمصیبت نہ بنا۔"

کہا جاتا ہے کہ وہ خاتون شادی کے لیے انصار کے درمیان سب سے بہتر  انتخاب تھیں۔ انھوں نے رسول اللہ (ص)کے حکم پر جُلیبِب (ر) سے شادی کی اور  پھر  ان کے ساتھ ہی رہیں حتیٰ کہ جُلیبِب کو شہادت کارتبہ مل گیا۔

اگلا صفحہ