ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے 

جُليبِب رضي اللہ عنہ 

گزشتہ سے پيوستہ

اور جُلیب کیسے شھید ہوئے؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک معرکہ میں شریک تھے اور ان کی کچھ مشرکین کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی۔ جب لڑائی ختم ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے پوچھا: " کیا اپ کا کوئی ساتھی کم ہے؟"۔  قریبی رشتہ دار اور دوستوں نے ان لوگوں کے نام بتائے جو شھید ہوئے تھے۔ ایک اور گروپ نے کہا کہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نےکہا :

"مگر میں نے جُلیب کو کھو دیا ہے ان کی میدان جنگ میں تلاش کرو۔" انھوں نے تلاش شروع کی اور جُلیب (رضی اللہ عنہ) کو اس حالت میں پایا کہ ان کے قریب ساتھ مشرکین کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جنھیں جُلیب (رضی اللہ عنہ) نے شھادت سے پہلے مضروب کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور وہاں پہنچے جہاں جُلیب (ر)، اپ(ص) کے صحابی، کا جسم موجود تھا۔ آپ (ص) وہاں کھڑے ہوگئے اور کہا :" انھوں نے سات افراد کو قتل کیا اور پھر قتل ہوئے۔  یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔"

اپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دو یا تین دفعہ دھرایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جُلیب (ر) کے ہتھیار لے لیے اور کہا کہ " ان کے لیے رسول اللہ (ص) کو گود سے بہتر کوئی بستر نہیں"۔ پھر رسول اللہ نے  ایک قبر خود تیار کی اور اپنے صحابی کو اپنے  ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ انھوں نے غسل نہیں دیا کیونکہ شھید کو غسل نہیں دیا جاتا۔

جُلیب (ر) اور ان کی شریک حیات ان صحابیوں میں شامل ہیں جن کا تذکرہ اور مدح اتنی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ مگر بہت کم تفصیلات جو کہ ان کے بارے میں معلوم ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ اتنے غیر نمایاں صحابیوں کوبھی امید اور عزت نفس رسول اللہ (ص) کی جانب سے عطاہوتی تھی جب وہ تنہا اور مشکل میں ہوتے تھے۔

اس نامعلوم انصاری خاتون کا عمل، جو کہ فوراً جُلیب جیسے غیر نمایاں مرد سے شادی کے لیے تیار ہوگئیں ، ان کے اسلام کی بہترین سمجھ کی جھلک دکھاتاہے۔ اپنے اپ کو اورا پنی ترجیحات کو اسلام کے لیے فنا کرنا جب کہ ان کے والدین بھی شادی کے لیے کچھ رضامند نہ تھے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام کے اور رسول اللہ کے احکام کی پابندی کرنا ان کو کتنا محبوب تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ کی حکمت اور  اختیار کے اگے  سر تسلم خم کرنا ان کا اختیاری فعل تھا جو کہ ایک سچے مومن کی نشانی ہے۔

جُلیب (ر)  ایک ایسے شخص کی مثال ہیں جو کہ ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے معاشرتی طور پر اچھوت کی سی حثیت رکھتے تھے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے توجہ، مدد، اور حوصلہ ملنے سے وہ بہادرانہ اقدامات کرنے کے قابل ہوسکے اور قربانی کی اعلیٰ مثال پیش کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس قول کے مستحق ہوئے کہ " میں ان سے ہوں اور یہ مجھ سے ہیں۔"