جواد جعفري ترجمہ ھمت علي
قتل
عام کئی
دھائیوں تک
جاری رہا اور
تاریخ دان
کہتے ہیں کہ
روئے زمین پر
اتنے بڑے
پیمانے پر
قتل و غارت
گری پہلے
نہیں ہوئی
تھی۔ ہزاروں
کی تعداد میں
لوگ ہلاک
ہوئے اور جو
زندہ رہے گئے
وہ بھی موت
کی راہ تک
رہے تھے۔ لوگ
سوچ رہے تھے
کہ اسلام کا
چراغ گل ہونے
کو ہے وہ
چراغ جو راہ
متعین کرنے
کا واحد
ذریعہ ہے۔
مگر تاریخ کا
دھارا اللہ
کے منتخب
غلاموں کے
ذریعے بدل
گیا۔
تیرھویں
صدی میں
تباھی کی ایک
عظیم لہر نے
مسلم دنیا کو
اپنی لپیٹ
میں لے لیا۔
لوہے اور اگ
کے اس طوفان
نے شہر در
شہر اور ملک
در ملک
اسلامی
ملکوں کا
تعاقب کیا۔
مسلمانوں
کو جس تباہی
کا سامنا
کرنا پڑا اس
کی جھلک درج
ذیل
اعدادوشمار
سے لگایا
جاسکتا ہے۔
نیشاپور
1،747،000 لوگ
شھید
بغداد
1،600،000 لوگ
شھید
ھرات
1،600،000 لوگ شھید
سمرقند
950،000 لوگ شھید
مرو
700،000 لوگ شھید
الیپو
50،000 لوگ شھید
بلک
مکمل طور پر
تباہ
کیوا
مکمل تباہ
ھاران
مکمل تباہ
بغداد
کو اکثر تاج
دنیا کا کوہ
نور قرار دیا
جاتا ہے۔
پورے چھ ہفتے
تک یہ ھیرا
تاتار یلغار
کے سے پامال
ہوتا رہا ۔
دجلہ و فرات
مسلمانوں
کے خون سے
سرخ ہوگئے۔
باعفت
خواتین کی بے
حرمتی کی
کھلے عام کی
گئی۔ وہ علم
جو صدیوں کی
جہد سے حاصل
کیا گیا اور
کتابوں کی
صورت میں
لائبریریوں
میں محفوظ
تھا ضائع
کردیا گیا۔
تجارت و
کلچر اور
تعلیم
انسانیت کے
عظیم مراکز
راکھ کے ڈھیر
اور مقتل میں
تبدیل کردیے
گئے۔
عظیم
قتل عام کا
منصوبہ ساز
اور عامل
چنگیز خان
تھا۔ اس کی
بے رحم خون
اشام چالیس
سالہ مہم
ایک مسلم
حکمران محمد
خوارزم کے
ایک نامناسب
رویے سے شروع
ہوئی۔
اپنے وقت کا
عظیم اور
طاقتور
حکمران
خوازم شاہ نے
حکم سے منگول
کاروان جو
مملکت
ِخوازم میں
تجارت کے لیے
ایا تھا قتل
کردیا گیا۔
جب چنگیز خان
نے اپنا ایک
وفد برائے
احتجاج
دربارِ
خوارزم میں
بھیجا تو
خوارزم شاہ
نے اُنھیں
بھی قتل
کردیا۔
یہ دو غیر
مہذب حرکات
کئی ھزاروں
معصوم
مسلمانوں
کو بدلے کے
نام پر تہہ
تیغ کرنے کے
باعث بنے۔




