ڈاکٹر عبدلوہاب زاہد حق
d


학압두 박사 | dr. Abdul Wahab Zahid Haq | Picture Gallery

Recitation of the Holy Quran


تلاوت قران الکريم- محمد صديق المنشاوي

Recitaion of The Holy Quran


قران الکريم کي تلاوت اردو ترجمہ کے ساتھ

جب عالم اسلام قریب المرگ تھا۔

جواد جعفري ترجمہ ھمت علي

قتل عام کئی دھائیوں تک جاری رہا اور تاریخ دان کہتے ہیں کہ روئے زمین پر اتنے بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری پہلے نہیں ہوئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور جو زندہ رہے گئے وہ بھی موت کی راہ تک رہے تھے۔ لوگ سوچ رہے تھے کہ اسلام کا چراغ گل ہونے کو ہے وہ چراغ جو راہ متعین کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ مگر تاریخ کا دھارا اللہ کے منتخب غلاموں کے ذریعے بدل گیا۔

تیرھویں صدی میں تباھی کی ایک عظیم لہر نے مسلم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لوہے اور اگ کے اس طوفان نے شہر در شہر اور ملک در ملک اسلامی ملکوں کا تعاقب کیا۔  مسلمانوں کو جس تباہی کا سامنا کرنا پڑا اس کی جھلک درج ذیل اعدادوشمار سے لگایا جاسکتا ہے۔

نیشاپور    1،747،000 لوگ شھید

بغداد  1،600،000 لوگ شھید

ھرات 1،600،000 لوگ شھید

سمرقند 950،000 لوگ شھید

مرو 700،000 لوگ شھید

الیپو 50،000 لوگ شھید

بلک مکمل طور پر تباہ

کیوا مکمل تباہ

ھاران مکمل تباہ

بغداد کو اکثر تاج دنیا کا کوہ نور قرار دیا جاتا ہے۔ پورے چھ ہفتے تک یہ ھیرا تاتار یلغار کے سے پامال ہوتا رہا ۔  دجلہ و فرات  مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوگئے۔ باعفت خواتین کی بے حرمتی کی کھلے عام کی گئی۔ وہ علم جو صدیوں کی جہد سے حاصل کیا گیا اور کتابوں کی صورت میں لائبریریوں میں محفوظ تھا ضائع کردیا گیا۔  تجارت و کلچر اور تعلیم انسانیت کے عظیم مراکز راکھ کے ڈھیر اور مقتل میں تبدیل کردیے گئے۔

عظیم قتل عام کا منصوبہ ساز اور عامل چنگیز خان تھا۔ اس کی بے رحم خون اشام چالیس سالہ مہم   ایک مسلم حکمران محمد خوارزم کے ایک نامناسب رویے سے شروع ہوئی۔  اپنے وقت کا عظیم اور طاقتور  حکمران خوازم شاہ نے حکم سے منگول کاروان جو مملکت ِخوازم میں تجارت کے لیے ایا تھا قتل کردیا گیا۔ جب چنگیز خان نے اپنا ایک وفد برائے احتجاج دربارِ خوارزم میں بھیجا تو خوارزم شاہ نے اُنھیں بھی قتل کردیا۔  یہ دو غیر مہذب  حرکات کئی  ھزاروں معصوم مسلمانوں  کو بدلے کے نام پر تہہ تیغ کرنے کے باعث بنے۔

اگلا صفحہ