اگر
تاتار مسلم
امہ کا ایک
جزو سمجھے
جاتے ہیں تو
ہمیں اس کے
لیے اپنے
ممتاز لوگوں
مثلاً جمال
الدین کا بھی
شکرگزار
ہونا چاہیے۔
پوری منگول
سلطنت چنگیز
خان کی
اولادوں میں
تقسیم تھی۔
منگول سلطنت
کے کچھ حصوں
میں مسلمان
جانوروں سے
بدتر سمجھے
جاتے تھا اور
عیسائیست یا
بدھ ازم
سلطنت
کا سرکاری
مذھب منتخب
ہونے جارہا
تھا۔ مگر
جمال الدین
جیسے مخلص
مسلمانوں کی
کوششیں رنگ
لائیں۔
جمال
الدین ایک
فارسی تھے جو
کہ چغتائی
خاندان کی
سلطنت میں
سفر کررہے
تھے جو مسلم
دشمنی میں
ممتاز تھی۔
کچھ ساتھیوں
کے ہمراہ وہ
غلطی سے
منگول
شہزادے تغلق
کی شکار گاہ
میں داخل
ہوگئے۔ جمال
کو گرفتار
کرکے تغلق کے
دربار میں
پیش کیا گیا۔
غصے کی حالت
میں تغلق نے
کہا کہ ایک
کتا فارسی سے
بہتر ہوتا ہے۔
جمال نے کہا "ہاں
اگر اس میں
سچا ایمان نہ
ہو۔ ہم
بلاشبہ اس
حالت میں کتے
سے بدتر ہیں"۔
تغلق اس جواب
سے بے حد
حیران ہوا۔
تغلق کے اس
سوال پر کہ "سچا
ایمان" کیا
ہوتا ہے جمال
نے اسلام کا
پیغام
سمجھایا۔
تغلق کو
اسلام کا
پیغام بے
حدبھایا۔
تغلق نے کہا
کہ کچھ وقت
بعد جب وہ
اپنی افواج
کو اچھی طرح
مجتمع کرلے
تو اسلام کا
اقرار کرے گا۔
جمال اپنے
وطن چلاگیا
اوربیمار
ہوگیا۔ اپنے
انتقال سے
پہلے اسنے
اپنے بیٹے
رشید سے تغلق
کو اپنا وعدہ
یاد دلانے کا
کہا جب وہ
بادشاہ بن
جائے۔ جب
تغلق بادشاہ
بن گیا تو
رشید تغلق سے
ملنے چلا۔
سرکاری
دربار میں
رشید جیسے
عام ادمی کی
رسائی کہاں
تھی۔ لہذا
رشید نے
اپنی جان کو
داؤ پر لگا
کر ایک
منصوبہ
بنایا۔ رشید
نے محل کے
بلکل پاس فجر
کے وقت
اوازِآذان
بلند کی۔ اس
کو بادشاہ کے
سامنے پیش
کیا گیا اور
پھر رشید نے
بادشاہ کو اس
کا وعدہ یاد
دلایا۔ اسی
صبح تغلق
تیمور خان ،
متحدہ افواج
کا سربراہ،
مسلمان
ہوگیا۔
الحمدللہ۔
ہلاکتوں اور تباہیوں نے پھر بغداد کارخ کررکھا ہے۔معصوم لوگ جو اس ناانصافی کانشانہ بن رہ ہے ہیں کو فراموش نہ کرنا چاہیے۔ ان کا ہم پر حق ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نشان قدم کی پیروی کریں اور ان کے پیروکار مسلمانوں جیسے جمال اور رشید الدین سےبھی سبق لیں اور اسلام کو دوسرے بنی نوع انسان تک پہچائیں۔ خوبصورتی ِ کردار اور خلوص ایک مینارہ نور کی صورت میں اپنی شخصیت میں ڈھالنا ہے تاکہ بنی نوع انسانیت اس مینارہ سے ،جو کہ اسلام کی صورت میں ضابطہ حیات کے طور پر ہمارے پاس ہو، مستفید ہوسکے۔ اللہ ہی ہے جو ہم سب کو راہ دیکھاتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اللہ کبھی ان لوگوں کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود اپنے اندر نہیں بدلتے۔ اس سے کم کچھ بھی کرنا ان شھیدوں کوخون کو بٹہ لگانا ہے جو ہماری انکھوں کے سامنے قربانیاں دے رہے ہیں۔
***ختم شد***




