بِسۡمِ
ٱللهِ
ٱلرَّحۡمَـٰنِ
ٱلرَّحِيمِ
وَالسَّمَاءِ
ذَاتِ
الْبُرُوجِ
(1)
وَالْيَوْمِ
الْمَوْعُودِ
(2) وَشَاهِدٍ
وَمَشْهُودٍ
(3) قُتِلَ
أَصْحَابُ
الْأُخْدُودِ
(4) النَّارِ
ذَاتِ
الْوَقُودِ
(5) إِذْ هُمْ
عَلَيْهَا
قُعُودٌ (6)
وَهُمْ
عَلَى مَا
يَفْعَلُونَ
بِالْمُؤْمِنِينَ
شُهُودٌ (7)
وَمَا
نَقَمُوا
مِنْهُمْ
إِلَّا أَنْ
يُؤْمِنُوا
بِاللَّهِ
الْعَزِيزِ
الْحَمِيدِ
(8) الَّذِي
لَهُ مُلْكُ
السَّمَاوَاتِ
وَالْأَرْضِ
وَاللَّهُ
عَلَى كُلِّ
شَيْءٍ
شَهِيدٌ (9)
إِنَّ
الَّذِينَ
فَتَنُوا
الْمُؤْمِنِينَ
وَالْمُؤْمِنَاتِ
ثُمَّ لَمْ
يَتُوبُوا
فَلَهُمْ
عَذَابُ
جَهَنَّمَ
وَلَهُمْ
عَذَابُ
الْحَرِيقِ
(10) إِنَّ
الَّذِينَ
آَمَنُوا
وَعَمِلُوا
الصَّالِحَاتِ
لَهُمْ
جَنَّاتٌ
تَجْرِي
مِنْ
تَحْتِهَا
الْأَنْهَارُ
ذَلِكَ
الْفَوْزُ
الْكَبِيرُ
(11) إِنَّ
بَطْشَ
رَبِّكَ
لَشَدِيدٌ (12)
إِنَّهُ
هُوَ
يُبْدِئُ
وَيُعِيدُ (13)
وَهُوَ
الْغَفُورُ
الْوَدُودُ
(14) ذُو
الْعَرْشِ
الْمَجِيدُ
(15) فَعَّالٌ
لِمَا
يُرِيدُ (16)
(البروج:
1۔16)
خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
قسم ہے بُرجوں والے آسمان کی۔ قسم ہے اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیاہے۔ قسم ہے گواہی دی گئی۔
مارے
گئے خندوقوں
والے، آگ کی
خندقیں جن
میں انہوں نے
بہت سا
ایندھن
جھونک رکھا
تھا۔ اور وہ
خندقوں پر
بیٹھے ہوئے
تھے اور اہل
ایمان کے
ساتھ جو (ظلم
و ستم) وہ
کررہے تھے
اُس کا تماشا
دیکھ رہے تھے۔
وہ اہل
ِایمان کی اس
بات سے
برافروختہ
تھے کہ وہ
اُس خداپر
ایمان لے
آئےتھے جو
زبردست اور
سزاوار حمد
ہے۔ اور اُس
کی بادشاہت
ہے آسمانوں
کی اور
زمینوں کی،
اور اللہ ہر
چیز کے حال
سے واقف ہے۔
بیشک جن
لوگوں نے
مومن مردوں
اور مومن
عورتوں کو
ایذائیں دیں
اور پھر توبہ
نہ کی ان کے
لیے جہنّم کا
عذاب ہے اور
ان کے لیے
جلنے کا عذاب
ہے۔ البتّہ
جو لوگ ایمان
لائے اور
انہوں نے نیک
عمل کیے اُن
لے لیے باغات
ہیں جن کے
نیچے نہریں
بہتی ہوں گی۔
یہ بہت بڑی
کامیابی ہے۔
بے شک تیرے
رب کی گرفت
بڑی سخت ہے۔
وہی ہے جو
اوّل پیدا
کرتا ہے اور
وہی ہے جو (قیامت
کے روز)
دوبارہ پیدا
کرے گا۔ اور
وہ بخشنے
والا اور
محّبت کرنے
والا ہے۔ عرش
کا مالک ہے
اور عالی شان
والا ہے۔ جو
چاہتاہے
کرگزرتاہے۔
قصہ
اصحاب
الاخدود کے
اسباق
اصحاب
الاخدود کا
قصّہ، جو
سورۃالبروج
میں بیان
ہواہے، اس
لائق ہے کہ
اس پر وہ
تمام اہل
ایمان
غوروتدبّرکریں
جو دنیا کے
کسی بھی خطّے
میں تاریخ کے
سی بھی عہد
میں دعوت الی
اللہ کا کام
کررہے ہوں۔
قرآن نے اس
قصّہ کو جِس
طرح بیان کیا
ہے، جس انداز
سے اس کی
تہمید قائم
کی ہے اور
پھر اس پر جو
تبصرے کیے
ہیں اور ساتھ
ساتھ جو
تعلیمات اور
فیصلے بیان
کیے ہیں ان
سب باتوں کے
ذریعے قرآن
نے درحقیقت
وہ بنیادی
خطوط اجاگر
کیے ہیں جو
دعوت الی
اللہ کی
فطرت، اس
دعوت کے بارے
میں انسانوں
کے رویّے اور
ان امکانی
حالات کی
نشان دہی
کرتے ہیں جو
اس دعوت کی
وسیع دنیا
میں۔۔ جس کا
رقبہ کرہ
ارضی سے
زیادہ وسیع
اور جس کا
عرصہ دنیاوی
زندگی سے
زیادہ طویل
ہے۔۔ پیش
اسکتے ہیں۔
قرآن نے اس
قصہ میں اہلِ
ایمان کے
سامنے اُن کے
راستے کے
نمایاں نقوش
بھی واضح
کردیے ہیں،
اور انہیں اس
بات پر آمادہ
کیا ہے کہ وہ
اس راہ میں
پیش آنے والی
ہر امکانی
مصیبت کا
خندہ پیشانی
سے خیر مقدم
کریں جو
پردہٓغیب
میں
مستوروپنہاں،
حکمتِ
خداوندی
کےتحت تقدیر
کے طرف سے
صادر ہو۔
اہل
ایمان کی فتح
یہ ایک ایسی جماعت کا قصہ ہے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئی تھی اور اُس نے اپنے سچّے ایمان کا صاف صاف اظہار کرنا چاہا۔ مگر اُسے جابر اور سخت گیر دشمنوں کے ھاتوں شدید مصائب کا نشانہ بننا پڑا جو انسان کے اس بنُیادی حق کو پامال کرنے پر تُلے ہوے تھے جو اُسے عقیدہٓ حق اختیار کرنے اور خدآے عزیز و حمید پر ایمان رکھنے کے لیے حاصل ہے۔ اور انسان کے اُس شرف کی دھجیاں اُڑارہے تھے جس سے اللہ نے انسان کو خاص طور پر نواز رکھا ہے تاکہ وہ دنیا میں ایک کھلونا بن کر نہ رہ جائے کہ ظالم و سنگدل حکّام اُس کو آہوں اور چییخوں سے اپنا دل بہلائیں، اُسے آگ میں بھونیں اور اپنے لیے تفریح اور لطف اندوزی کا سامان پیدا کریں۔ یہ نفوس قدسیہ ایمان و عقیدہ کے جس جذبہ سے سرشار تھے اُس کی بدولت وہ اس آزمائش میں پُورے اُترے۔ اور جس امتحان میں انہیں ڈالا گیا تھا اُس میں بالاخر فانی زندگی نے عقیدہ کے ہاتھوں شکست کھائی۔ چنانچہ یہ لوگ ان جباروں اور ظالموں کی کسی دھمکی اور دباؤ سے مرعوب و متاثر نہیں ہوئے۔ آگ کے عذاب میں جل کر موت کی آغوش میں چلے گئے مگر اپنے دین سے سرمو ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ درحقیقت یہ پاکیزہ نفوس دُنیا کی حیات مستعار کی محبّت و پرستش سے آزاد ہو چکے تھے۔ اسی لیے بہیمانہ موت کا بچشم سر مشاہدہ کرنے کے باوجود زندہ رہنے کی خواہش انہیں ترک عقیدہ کی ذلّت قبول کرنے پر آمادہ نہ کرسکی۔ وہ عالم سفلی کی بندشوں اور اسباب کشش سے نجات پا کر عالم علوی کی طرف پرواز کرگئے۔ یہ فانی زندگی پر ابدی عقیدہ کی فتح کا کرشمہ تھا۔




