اس معرکہ ميں کس کو فتح ہوئي
دنيا
کے پيمانے سے
اگر ديکھا
جائےتو
معلوم ہوگا
کہ ظلم نے
عقيدہ پر فتح
پائي اور
صالح و صابر
اور خدا پرست
گروہ کي
ايماني قوت
جو بلاشبہ
تقطہ کمال تک
پہنچ چکي تھي
اس ظلم و
ايمان کے
معرکے ميں بے
وزن و بےوقعت
. ثابت
ہوئی۔ نہ
قرآن ہی یہ
بتاتا ہے اور
نہ روایات ہی
یہ بتاتی ہیں
جو اس واقعہ
کے بارے میں
وارد ہوئی
ہیں کہ اللہ
تعالیٰ نے ان
ظالموں کو
بھی ان کے
جرم شدید کی
اسی طرح
سزادی ہو، جس
طرح قوم نوح
علیہ سلام،
قوم ہود ،
قوم صالح،
قوم شعیب اور
قوم لوط علیہ
سلام کو دی
ہے یا جس طرح
فرعون اور اس
کے لشکریوں
کو پوری
قاہرانہ و
مقتدرانہ
شان کے ساتھ
پکڑا تھا۔۔۔۔
گویا دنیا
پرست کے نقطہ
نظر سے اس
واقعہ کا
اختتام بڑا
افسوس ناک و
الم انگیز ہے۔
مگر
کیا بات صرف
پر ختم ہو
جاتی ہے؟ کیا
ایمان کی
انتہائی
بلندیوں تک
پہنچ
جانےوالی
خداپرست
جماعت ان
زہرہ گداز
آلام کے
نتیجے میں آگ
کی خندقوں
میں راکھ بن
کر ملیامیٹ
ہوگئی اور
گروہ مجرمین
جو رذالت اور
کمینگی کی
آخری حد کو
پھلانگ چکا
تھا، وہ دنیا
میں سزا سے
صاف بچ گیا۔
جہاں تک
دنیاوی حساب
کا تعلق ہے
اس افسوسناک
خاتمے کے
بارے میں دل
میں کچھ خلش
سی اٹھتی ہے۔
مگر قرآن اہل
ایمان کو ایک
دوسری نوعیت
کی تعلیم
دیتا ہے اور
ان کے سامنے
ایک اور ہی
حقیقت کی
پردہ کشائی
کرتاہے۔ وہ
ان کو ایک
نیا پیمانہ
دیتا ہے جس
سے وہ اشیا
کا صحیح وزن
جانچ سکیں
اور حق و
باطل کے جن
معرکوں سے وہ
دوچار ہوتے
ہیں ان کی
اصل حقیقت
اور اصل
میدان سے
اگاہ ہوسکیں۔
کامیابی
کا اصل معیار
دنیا کی زندگی اور اس کی آسائشیں اور تکلیفیں، کامرانیاں اور محرومیاں ہی کارزار حیات میں فیصلہ کُن نہیں ہیں۔ یہی وہ مال نہیں ہے جو نفع اور نقصان کا حساب بتا سکے۔ نصرت صرف ظاہری غلبہ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ نصرت کی بے شمار صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ اللہ کی میزان فیصلہ میں اصل وزن عقیدہ کا ہے۔ اور نصرت کی اعلیٰ ترین شکل یہ ہے کہ روح مادہ پر غالب آجائے، عقیدہ کو رنج و محن پر کامیابی ہو اور آزمائش کے مقابلے میں ایمان فتح یاب ہوجائے۔۔۔ چنانچہ اصحاب الاخدود کے واقعہ میں اہل ایمان کی روح نے خوف و کرب پر دنیا کی ترغیبات پر، زندگی کی محبت پر اور کڑی آزمائش پر وہ عظیم فتح پائی ہے کہ رہتی دنیا تک وہ بنی نوع انسان کے لیے طرہ افتخار رہے گی۔ ۔۔ یہی ہے اصل کامیابی۔




