مومن
کی موت بجائے
خود اعزاز ہے
سب
انسان موت کی
آغوش میں
جاتے ہیں۔
مگر اسباب
موت مختلف
ہوتے ہیں۔
لیکن سب
انسانوں کو
یہ کامیابی
نصیب نہیں
ہوتی، نہ سب
اونچا معیار
ایمان پیش
کرسکتے ہیں،
نہ ہی اس حد
تک کامل
آزادی حاصل
کرسکتے ہیں،
نہ ہی اتنے
اونچے افق تک
پرواز
کرسکتے ہیں۔
یہ اللہ کا
فضل ہوتا ہے
کہ وہ ایک
مبارک گروہ
کو اپنے
بندوں میں سے
چھانٹ لیتا
ہے جو مرنے
میں تو دوسرے
انسانوں کے
ساتھ شریک
ہوتا ہے مگر
ایسا شرف و
اعزاز اس کو
نصیب ہوتا ہے
جو دوسرے
لوگوں کو
نصیب نہیں
ہوتا۔۔۔ یہ
شرف و اعزاز
اّسے ملأ
اعلیٰ میں
ملتا ہے۔
بلکہ اگر پے
درپے آنے
والی انسانی
نسلوں کے
نقطہ نظر کو
بھی حساب میں
شامل کرلیں
تو خود دنیا
کے اندر بھی
ایسا مبارک
گروہ شرف و
اعزاز کا
مرتبہ بلند
حاصل کرلیتا
ہے۔
ان
مومنین نے
انسانی نسل
کی لاج رکھی
ہے
مومنین
ایمان ہار کر
اپنی جانوں
کو بچاسکتے
تھے۔ لیکن اس
میں خود ان
کا اپنا کتنا
خسارہ ہوتا
اور پوری
انسانیت کو
کس قدر خسارہ
پہنچتا! یہ
کتنا
بڑاخسارہ
تھا کہ اگر
وہ اس روشن
حقیقت کو
پامال
کردیتے کہ
زندگی ایمان
سے خالی ہو
تو وہ ایک
کوڑی کی بھی
نہیں رہتی،
نعمت آزادی
سے تہی ہو تو
قابل نفرین
ہے اور اگر
ظالم و
نافرمان لوگ
اس حد تک جری
ہوجائیں کہ
جسموں پر
تسلّط حاصل
کرنے کے بعد
دلوں اور
رُوحوں پر
بھی حکمرانی
کرنے لگیں تو
یہ زندگی کی
انتہائی
گراوٹ ہے!! یہ
پاکیزہ
وارفع حقیقت
ہے جسے اہل
ایمان نے اسی
وقت پالیا
تھاجب کہ وہ
ابھی دنیا
میں موجود
تھے، جب کہ
آگ ان کے
جسموں کو
چھُورہی تھی
تو وہ اسی
عظیم حقیقت
اور پاکیزہ
اصول پر
کاربند تھے۔
ان کے فانی
جسم آگ سے جل
رہے تھے اور
یہ عظیم اور
پاکیزہ اصول
کامیابی
کالوہا
منوارہا تھا
بلکہ آگ اسے
مزید نکھار
کر کندن
بنارہی تھی۔




