ترجمہ ھمت علي
زینب
الغزالی 1917
میں مشرق
وسطیٰ
،مصرکے شہر
میٹین میں
مڈل کلاس
زراعت سے
تعلق رکھنی
والے خاندان
میں پیدا
ہوئیں۔ یہ
خاندان
روایتی طور
پر مذہبی
گھرانہ تھا۔20
سال کی عمر
میں انھوں نے
جماعت
السیّدات
المسلمین کی
بنیاد رکھی۔
جو کہ عورتوں
کی فلاح و
بہبود کا کام
کرتی تھی خاص
طور پر غریب
اور پسماندہ
طبقے سے تعلق
رکھنے والی
خواتین اور
یتیموں
کے لیے
وہ،
شاہ فاروق کے
دور میں، خاص
طور پر اخوان
المسلمین کے
فلسطین میں
جہاد کی
کارکردگی سے
بہت متاثر
تھیں۔ اسی
دور میں وہ
اخوان کے
بانی جناب
حسن البنا سے
اور دوسرے
لیڈروں سے جن
میں سید قطب
شھید،
حسن
الھذیبی،
اورفتح
اسماعیل
شامل ہیں کی
تعلمیات سے
بہت متاثر
ہوئیں۔
جمال
عبدل ناصر کے
دور میں1964
میں ان پر
ایک قاتلانہ
حملہ ہوا
بظاہر ایک
کار کے حادثہ
میں وہ شدید
زخمی ہوگیں
اور اس دور
میں جمال
ناصر اخوان
کی کمر توڑنے
پرتل گیا تھا۔
جمعہ
20 اگست 1965 کو ان
کو جمال ناصر
کی قتل کی
سازش کے
الزام میں
گرفتار
کرلیا گیا
اور ظالم
طاقت نے
انھیں 6 سال
کے لیے مقید
کردیا۔ چھ
سال تک ناصر
کی خفیہ
پولیس کی
ہرکوشش رہی
کہ کسی طرح
جناب زینب
الغزالی کو
توڑ دیا جائے
اور اس مقصد
کے لیے انھوں
نے ہر طرح کے
حربے
استعمال کے
بشمعول تشدد
اور لالچ۔
ظالم انھیں
ہاتھوں سے
باندھ کر
لٹکادیتے
تھےا ور سلاخ
سے بے تحاشہ
پٹائی کرتے
تھے۔
وہ
انھیں پاگل
کتوں سے بھرے
کمرے میں بند
کردیتے تھے۔
جو کھانا
انھیں
دیاجاتاتھا
اس میں پیشاب
اور غلاظت
ملی ہوئی
ہوتی تھی۔
انھیں مجبور
کیا جاتا تھا
کہ وہ بغیر
حرکت کے ہوئے
گلے تک پانی
سے بھرے کمرے
میں وہ بھٹیں
جیسے نماز کی
حالت میں
بیٹھتے ہیں
اور طویل مدت
تک یہ عمل
دھرایا جاتا
تھا حتیٰ کہ
ان کی کھال
گل جاتی
تھی۔ذرا سی
حرکت کرنے پر
ان کی پانی
میں بیٹھنے
کی مدت
بڑھادی جاتی
تھی۔
ہر
مرتبہ جب
انھیں ملٹری
ھسپتال لے
جایا
جاتاتھا تو
صرف اس لیے
کہ مزید تشدد
سہنے کے لیے
زندہ
رہیں۔ڈاکٹر
کہتے تھے کہ
اب یہ زندہ
نہیں بچیں
گیں مگر ہر
مرتبہ وہ
مزید تشدد
سہنے پر
مجبور تھیں ۔
الحمد اللہ
وہ 1974 کو رہا
ہوگئیں۔
پچھلے سال
اگست میں
زینب
الغزالی 88
سال کی عمر
میں انتقال
فرماگئیں۔
اناللہ
واناالیہ
راجعون۔
ناصر
اور اس کے
ادمی اس
پرھیز
گارخاتون کی
ھڈیا ں توڑنے
میں تو
کامیاب
ہوگئے مگر وہ
اُن کے اللہ
پرایمان اور
مضبوط قوت
ارادی توڑنے
میں ناکام
رہے۔ زینب
الغزالی اس
امتحان میں
سرخرو ہورکر
ایمان میں
مزید مضبوط
ہوگئیں۔ بے
شک اللہ ان
لوگوں کو
ازماتا ہے جن
سے وہ محبت
کرتا ہے تاکہ
ان کے درجات
مزید بلند
کردے۔
http://www.islamonline.net/English/News/2005-08/03/article06.shtml




